- Get link
- X
- Other Apps
علی، جو کہ ایک جرات مند نوجوان تھا، نے اپنے دوستوں کو چیلنج دیا تھا کہ وہ اس حویلی کے اندر جائیں۔ کہا جاتا تھا کہ اس حویلی میں رات کو بھوت بھٹکتا ہے۔
جب علی نے قدم اندر رکھا، سرد ہوا کا جھونکا اس کے چہرے سے ٹکرا، اور دیواروں سے پرانے گیتوں کی مدھم آواز آ رہی تھی۔ علی نے اپنے موبائل کی ٹارچ آن کی، مگر اچانک روشنی بجھ گئی۔
دھوپ کی طرح اندھیرا پھیل گیا۔
تبھی، علی کے پیچھے سے ایک دھیمی ہنسی کی آواز آئی، جو اس کے دل کی دھڑکن کو تیز کر گئی۔ علی نے مڑ کر دیکھا، مگر وہاں کوئی نہ تھا۔ اچانک ایک سرد ہاتھ اس کے کندھے پر لگا۔
علی چونک کر مڑا، مگر وہاں کوئی نہ تھا۔ وہ دوڑتا ہوا باہر نکلا، اور جب باہر پہنچا تو دوستوں نے پوچھا:
"کیا ہوا؟ اندر کیا دیکھا؟"
علی نے کانپتے ہوئے کہا:
"وہاں کوئی ہے جو ہمیں دیکھ رہا تھا، اور وہ... کبھی بھی تنہا نہیں ہوتا۔"
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment